ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / ترک ریفرنڈم پر تنقیدسے ایردوآن برہم

ترک ریفرنڈم پر تنقیدسے ایردوآن برہم

Tue, 18 Apr 2017 21:48:40    S.O. News Service

استنبول، 18/اپریل (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ملک میں صدارتی نظام لانے کے سوال پر کرائے گئے ریفرنڈم کے حوالے سے بین الاقوامی تنقید پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔غورطلب ہے کہ ترکی میں اتوار 16/اپریل کو ہونے والے ریفرنڈم میں اُس آئینی تبدیلی پر رائے عامہ طلب کی گئی تھی، جس کے تحت ملک میں پارلیمانی نظام ختم کرتے ہوئے صدارتی جمہوری نظام لاگو کیا جانا ہے۔ اس نظام کے تحت صدر رجب طیب ایردوآن کو وسیع تر اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔اس ریفرنڈم کو نہ صرف ترکی کے داخلی مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہمیت دی جا رہی تھی بلکہ 1952سے مغربی دفاعی اتحاد کی رُکن ہونے اور یورپی یونین کا رُکن بننے کے امیدوار اس ملک کے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں بھی اہم قرار دیا جا رہا تھا۔انقرہ میں صدارتی محل کے باہر جمع ہونے والے اپنے ہزارہا حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ووٹنگ کے عمل پر تنقید کرنے والے بین الاقوامی مبصرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی اوقات میں رہیں۔ ایردوآن کا یہ بھی کہنا تھا کہ تُرکی مستقبل میں دیگر اہم معاملات پر بھی ریفرنڈم کرا سکتا ہے، جن میں سزائے موت کی بحالی اور یورپی یونین کی امیدواری ترک کرنے جیسے معاملات بھی شامل ہیں۔ترک الیکشن حکام کی طرف سے جاری کردہ حتمی نتائج کے مطابق اتوار کے روز آئینی تبدیلی کے حق میں 51.41فیصد ووٹ ڈالے گئے تھے۔ تاہم اپوزیشن کی طرف سے فوری طور پر ریفرنڈم کے اس عمل میں بے قاعدگیوں کا الزام سامنے آیا اور دعویٰ کیا گیا کہ اگر ووٹنگ کا عمل شفاف رہتا تو نتیجہ اُن کے حق میں ہوتا۔ترکی کی مرکزی اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی)اور کُرد نواز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(ایچ ڈی پی)نے کہا ہے کہ وہ مبینہ بے قاعدگیوں کے معاملات کو عدالت میں چیلنج کریں گی۔ ملک کے مختلف شہروں میں لوگ ریفرنڈم کے نتائج کے خلاف سڑکوں پر بھی نکل رہے ہیں۔ترکی میں ہونے والے اس آئینی ریفرنڈم کے نگران بین الاقوامی مبصرین نے پیر 17/اپریل کو جو ابتدائی رپورٹ انقرہ میں پیش کی، اس میں کہا گیا کہ ملکی انتخابی بورڈ کے عین آخری وقت پر کیے گئے چند فیصلے ایسے تھے، جنہوں نے صاف اور شفاف عوامی رائے دہی کے عمل کو یقینی بنانے کی کوششوں کو نقصان پہنچایا۔ مثال کے طور پر انتخابات کی نگرانی کرنے والے تُرکی کے اعلیٰ ترین ملکی ادارے نے آخری وقت پر ایسے ووٹوں کو بھی جائز قرار دینے کا فیصلہ کیا تھا، جن پر کوئی سرکاری مہر نہ لگی ہوئی ہو۔ترک ریفرنڈم کی نگرانی کے لیے بھیجے گئے بین الاقوامی مبصرین میں کونسل آف یورپ کی پارلیمانی اسمبلی (پی اے سی ای)اور یورپی سلامتی اور تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای)کے انسانی حقوق اور جمہوری اداروں کے دفتر(او ڈی آئی ایچ آر)سے تعلق رکھنے والے مبصرین شامل تھے۔تاہم تُرک صدر رجب طیب ایردوآن نے بین الاقوامی مبصرین کے اس مشن کو اپنی اوقات میں رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ترکی ان کی پیش کردہ رپورٹ پر کوئی توجہ دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ایردوآن کا مزید کہنا تھا، اس ملک نے ووٹنگ کا عمل ایک ایسے انتہائی جمہوری انداز میں منعقد کرایا ہے کہ جو مغرب کے کسی دوسرے ملک میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔
 


Share: